افغان امن مذاکرات کے لیے 'پاکستان کے فیصلہ کن اقدام کے منتظر ہیں'

11 تير 10:49
پاکستان کے دورے سے قبل کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایلس ویلز نے کہا تھا کہ امن مذاکرت کے عمل کو آگے بڑھانے میں ہمسایہ ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن پاکستان نے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

امریکہ کی ایک سینئر سفارت کار نے کہا ہے کہ طالبان پر صدر اشرف غنی کی امن مذاکرات کی پیش کش کا جواب دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تاکہ افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کی سینیئر عہدیدار برائے جنوبی و وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے کابل کے اپنے حالیہ دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "طالبان کا بات چیت سے انکار اب ناقابلِ قبول ہوتا جا رہا ہے۔"
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ "صاف بات یہ ہے کہ اس وقت مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ وہ طالبان رہنما ہیں جو افغانستان میں مقیم نہیں ہیں۔"
انہوں نے یہ بات ہفتے کو نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
افغانستان پر 2001ء میں امریکہ پر حملے کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد طالبان گزشتہ 17 سال سے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ عید کے موقع پر پہلی بار تین دن کی جنگ بندی کی تھی۔
تاہم طالبان رہنماؤں صدر اشرف غنی کی مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کر دیا تھا۔
دوسری طرف طالبان نےجنگ بندی پر زور دینے والے سول سوسائٹی اور مقامی گروپوں پر امریکہ کے ہاتھوں میں کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ مذاکرات افغانستان سے امریکہ کی فورسز کے انخلا سے مشروط ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے حمایت وسیع پیمانے پر موجود ہے جس کی عکاسی افغان شہروں کی سڑکوں پر عید کے موقع پر مسلح عسکریت پسندوں اور سرکاری فوجیوں کے آپس میں گھل مل جانے کے مناظر سے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، "یہ حمایت ہم نے نہ صرف افغان عوام میں دیکھی بلکہ یہ طالبان کمانڈرز اور جنگجوؤں میں بھی دیکھی گئی جو ایک غیر معمولی بات ہے۔"
افغان صدر اشرف غنی نے عید کے موقع پر حکومت کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی میں رضاکارانہ توسیع کے بعد ہفتے کو سرکاری فورسز کو معمول کی کارروائیاں شرو ع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم انہوں نے ایک بار پھر طالبان کو مذاکرات کی اپنی پیش کش کا اعادہ کیا تھا۔
ایلس ویلز کا مزید کہنا تھآ کہ امریکہ کی طرف سے امن مذاکرات میں شامل ہونے اور افغانستان میں غیر ملکی فورسز کی مستقبل کے بارے میں بات چیت پر آمادگی کے بعد طالبان کے پاس افغانستان حکومت کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اس وجہ سے ان کے وہ تمام اعتراضات ختم ہو جاتے ہیں جن کی بنیاد پر طالبان افغان حکومت سے بات چیت پر تیار نہیں ہیں۔"
ایلس ویلز پیر کو اسلام آباد میں پاکستان حکام سے ملاقات کریں گی۔
پاکستان کے دورے سے قبل کابل میں انہوں نے مزید کہا تھا کہ امن مذاکرت کے عمل کو آگے بڑھانے میں ہمسایہ ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن پاکستان نے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے اب تک اسلام آباد کی جانب سے پائیدار اور فیصلہ کن اقدامات نہیں دیکھے ہیں اور اہم ان کے منتظر ہیں۔"
افغان حکومت پاکستان پر افغان طالبان کی حمایت اوران کے رہنماؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کرتی آئی ہے۔
لیکن اسلام آباد اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ عسکریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے اس کے اپنے شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔

تبصرے بھیجیں

آپ کی رائے

آپ کی رائے