- جمعه
December 14, 2018

انسانی حقوق کی ویب سائٹ حقیقت

امریکہ اور یورپ کے اختلافات میں شدت



امریکہ اور یورپ کے اختلافات میں شدت

سات بڑے صنعتی ملکوں کے گروپ جی سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد امریکہ اور یورپ اکے ختلافات میں مزید شدت پیدا ہوگئی ہے۔


جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جی سیون سربراہی اجلاس کے اعلامیہ کی مخالفت کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کو اب امریکہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ امریکی صدر کے حالیہ اقدام کے جواب میں یورپی ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جی سیون اجلاس کے حوالے سے ٹرمپ کا فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے حوالے سے بھی ہم ان کے اس رویئے کا مشاہدہ کرچکے ہیں۔کینیڈا، فرانس اور جرمنی کے ساتھ امریکہ کے شدید اختلافات کے سائے میں ہونے والے جی سیون کے اجلاس میں شریک امریکی صدر نے امریکہ روانگی سے قبل کینیڈا کے وزیراعظم کے بیان پر شدید برھمی ظاہر کرتے ہوئے اجلاس کے اختتامی بیان کی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کا یہ اقدام ایک جانب امریکہ اور یورپ اور دوسری جانب امریکہ کے اسٹریٹیجک پارٹنر کینیڈا کے ساتھ تعلقات کے لیے بہت بڑا دھچکہ شمار ہوتا ہے۔کہا یہ جارہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اقدامات کے ذریعے کئی عشروں پر محیط یورپ امریکہ، اقتصادی، تجارتی اور سیکورٹی تعلقات کی جہت کو محض چند برس میں تبدیل کرنا چاہیے ہیں۔دوسری جانب یورپی رہنما اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی غرض سے جی سیون اجلاس کے بیان سے امریکی صدر کی روگرادنی کو امریکہ کی اس گروپ سے علیحدگی تصور نہ کیا جائے۔جرمن چانسلر اینجلا مرکل کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ٹوئیٹر کے ذریعے جی سیون سربراہی اجلاس کے بیان سے صدر ٹرمپ کی روگردانی معنی خیز اور کسی حدتک مایوس کن ہے۔اینجلا مرکل کے بقول جی سیون کے حالیہ اجلاس میں جو کچھ ہوا وہ امریکہ اور یورپ کے درمیان تعاون کا خاتمہ نہیں ہے، تاہم انہوں نے کھل کر کہا ہے یورپ کو اب امریکہ پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے اپنے فیصلے خود کرنا ہوں گے۔اگرچہ فوری طور پر امریکہ کے جی سیون سے نکلنے کا معاملہ سنجیدہ نہیں ہے لیکن پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران صدر ٹرمپ کے رویئے کو دیکھتے ہوئے، جی سیون کے دیگر چھے ممالک کو کوئی تعجب نہیں ہوگا کہ کسی دن امریکی صدر عالمی قوانین کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جی سیون سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کردیں۔درحقیقت جی سیون کے باقی چھے ملکوں نے خود کو اس دن کے لیے تیار بھی کرلیا ہے اور فرانس کے  صدر عمانو‏ئیل میکرون نے کھل کہا ہے ہم جی سکس کی صورت میں بھی طاقتور گروپ کے طور پر باقی رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے عالمی کردار سے دستبردار ہونا چاہتا ہے تو ہوجائے لیکن یہ امریکی معیشت اور امریکہ کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا اور ٹرمپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔

ٹیگ

امریکہ،ڈونلڈ ٹرمپ،اینجلا مرکل،

اپنے نوٹ بھیجیں

آپ کے نوٹ

آپ کا نوٹ

free website counter